Saturday, 19 February 2011

آيات قرآني اور فتنہ خبيث درخت اور فتنہ

آيات قرآني اور فتنہ

خبيث درخت اور فتنہ

اور جب ہم نے تم سے کہہ ديا کہ
تيرے رب نے سب کو قابو ميں کر رکھا ہے
اور وہ خواب جو ہم نے تمہيں دکھايا اور
وہ خبيث درخت جس کا ذکر قرآن ميں ہے
ان سب کو ان لوگو ں کے ليے فتنہ بنا ديا
اور ہم تو انہيں ڈراتے ہيں
سو اس سے ان کي شرارت اوربھي بڑھتي جاتي ہے
(  سورة الإسراء  60)
اور فتنہ انگيزي تو قتل سے بھي بڑا جرم ہے
 _
کے متعلق پوچھتے ہيں کہہ
دو اس ميں لڑنا بڑا گناہ ہے
اور الله کے راستہ سے روکنا
اور اس کا انکار کرنا
اور مسجد حرام سے روکنا
اور اس کے رہنے والوں کو اس ميں سے نکالنا
الله کے نزديک اس سے بڑا گناہ ہے
اور فتنہ انگيزي تو قتل سے بھي بڑا جرم ہے
اور وہ تم سے ہميشہ لڑتے رہيں گے يہاں تک کہ
تمہيں تمہارے دين سے پھير ديں
اگر ان کا بس چلےاور جو تم ميں سے اپنے دين سے پھر جائے
پھر کافر ہي مرجائے پس يہي
وہ لوگ ہيں کہ ان کے عمل دنيا اور آخرت ميں ضائع ہو گئے
اور وہي دوزخي ہيں جو اسي ميں ہميشہ رہيں گے
(  سورة البقرة : 217)
اکثر اندھے اور بہرے
 _
گمان کيا کہ کوئي فتنہ نہيں ہوگا
اور يہي گمان کيا کہ کوئي فتنہ نہيں ہوگا
پھر اندھے اور بہرے ہوئے
پھر الله نے ان کي توبہ قبول کي
پھر ان ميں سے اکثر اندھے اور بہرے ہو گئے
اور جو کچھ وہ کرتے ہيں الله ديکھتا ہے
(  سورة المائدة : 71)
تم نے اپنے آپ کو فتنہ ميں ڈالا
_________________________________
وہ انہيں پکاريں گے کيا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے
وہ کہيں گے کيوں نہيں
ليکن تم نے اپنے آپ کو فتنہ ميں ڈالا
اور راہ ديکھتے اور شک کرتے رہے اور تمہيں آرزوؤں نے دھوکہ ديا يہاں تک کہ الله کا حکم آ پہنچا اور تمہيں الله کے بارے ميں شيطان نے دھوکہ ديا
(  سورة الحديد 14)
اس فتنہ سے بچتے رہو خاص ظالموں پر ہي نہ پڑے گا

اور تم اس فتنہ سے بچتے رہو
جو تم ميں سے خاص ظالموں پر ہي نہ پڑے گا
اور جان لو کہ بے شک الله سخت عذاب کرنے والا ہے
( سورة الأنفال:25)
ملک ميں فتنہ پھيلے گا

اور جو لوگ کافر ہيں وہ ايک دوسرے کے رفيق ہيں
اگر تم يوں نہ کرو گے تو
ملک ميں فتنہ پھيلے گا اوروہ بڑا فساد ہوگا
(  سورة الأنفال  73)


خبردار!وہ فتنہ ميں پڑ چکے ہيں
اور ان ميں سے بعض کہتے ہيں کہ
مجھے تو اجازت ہي ديجيئےاور فتنہ ميں نہ ڈاليے
خبردار!وہ فتنہ ميں پڑ چکے ہيں
اوربے شک دوزخ کافروں پر احاطہ کرنے والي ہے
(  سورة التوبة 49)

No comments:

Post a Comment