Monday, 21 February 2011

shiasindh: FITNAH HADITH SAHIH BUKHARI AND SUNNAN ABU DAUD ....

shiasindh: FITNAH HADITH SAHIH BUKHARI AND SUNNAN ABU DAUD ....: "FITNAH HADITH SAHIH BUKHARI AND SUNNAN ABU DAUD___________________________________________Fitnah 'Qit alal (fighting caused by affl..."

shiasindh: Approval of Imam OR A senior Muslim leader For ...

shiasindh: Approval of Imam OR A senior Muslim leader For ...: "Jihad and Qital God has gifted Human beings with reason And It is the duty of each to seek guidance from open knowledge & Muslims ..."

shiasindh: MUSLIM WORLD /STATE OF MADINA AFTER THE DEMISE OF...

shiasindh: MUSLIM WORLD /STATE OF MADINA AFTER THE DEMISE OF...: "____________________________________________ MUSLIM WORLD /STATE OFMADINAAFTER THE DEMISE OF LAST PROPHET OF ISLAM.___________________..."

shiasindh: IMAM MAHDI (a.s) IJMA MUSLIM AND ISLAM..............

shiasindh: IMAM MAHDI (a.s) IJMA MUSLIM AND ISLAM..............: "امام مہدی (عج) اور مسلمانوں كا عقیدہعقیدہ مہدویت پر اجماعاجماع مسلمین سے مرادصرف اجماع شیعہ نہیں ہے كیونكہ یہ واضحات میں سے ہے او..."

IMAM MAHDI (a.s) IJMA MUSLIM AND ISLAM............... امام مہدی (عج) اور مسلمانوں كا عقیدہ عقیدہ مہدویت پر اجماع

امام مہدی (عج)  اور مسلمانوں كا عقیدہ
عقیدہ مہدویت پر اجماع
اجماع مسلمین سے مرادصرف اجماع شیعہ نہیں ہے
 كیونكہ یہ واضحات میں سے ہے اورسب جانتے ہیں كہ
 عقیدہ و جود و ظہور امام مہدی (عج) اصول و ضروریات مذہب شیعہ اثنا عشری میں سے ہے
 جس میں كوئی بحث كی گنجائش نہیں ۔
 بلكہ اجماع مسلمین سے مراد اجماع شیعہ و اہل سنت ہے
 رسول اللہ كی وفات كے بعد صحابہ و تابعین كے درمیان عقیدہ مہدی (عج) مسلم تھا
 اورظہور حضرت امام مہدی (عج) كے بارے میں كوئی اختلاف نہیں تھا،
اسی طرح قرن اول كے بعد سے لے كر چودہوں صدی ہجری تك آپ كے ظہور كے سلسلے میں بھی تمام مسلمانوں كے درمیان اتفاق تھا،
 اوراگر كوئی ان احایث كی صحت اوران كے رسول خدا سے صادر ہونے كے بارے میں شك یا تردد كرتے تو اس شخص كی ناواقفیت پر حمل كرتے تھے،
 یہی وجہ ہے آج تك تاریخ اسلام میں جھوٹے اور جعلی مہدیوں كی رد
 میں كسی نے یہ نہیں كہا كہ یہ عقیدہ ہی باطل ہے،
بلكہ حضرت مہدی (عج) كے اوصاف اور علامتوں كے نہ ہونے كے ذریعے رد كیا ہے ۔
مثال كے طور پر ” ابو الفرج“ لكھتے ہیں:
 ” ابوالعباس“ نے نقل كیا ہے كہ میں نے مروان سے كہا
” محمد [بن عبداللہ] “ خود كو مہدی كہتے ہیں، اس نے كہا:
نہ وہ مہدی موعود (عج) ہے نہ ان كے باپ كی نسل سے ہوگا بلكہ وہ ایك كنیز كا بیٹا ہے ۔
ابو الفرج ہی لكھتے ہیں:
جعفر بن محمد [امام جعفر الصادق] عليہ اسلام جب بھی
 محمدبن عبداللہ كو دیكھتے گریہ كرتے تھے
 اور فرماتے تھے ” حضرت مہدی (عج) پر  میری جان فدا ہو،
لوگ خیال كرتے ہیں كہ یہ شخص مہدی موعود ہے جب كہ یہ قتل كیا جائے گا
اوركتاب علی علیہ السلام میں امت كے خلفاءكی لسٹ میں اس كا نام نہیں ہے ۔
مختصر یہ كہ
 ” عقیدہ مہدویت “ صدر اسلام سے ہی مسلمانوں كے درمیان مشہور تھا اور لوگوں میں اتنا راسخ ہوگیا تھا كہ وہ صدر اسلام ہی سے ان كے انتظار میں تھے اورہر لمحہ صحیح مصداق كی تلاش میں رہتے تھے اوركبھی غلطی سے بعض افراد كو مہدی سمجھ بیٹھتے تھے، اور جیسا كہ عرض كیا مسئلہ مہدی (عج) پر مسلمانوں كا اجماع ہے ۔
چنانچہ :
” سویدی “
 ” سبائك الذہب“ میں تحریر كرتے ہیں :
”الذین اتفق علیہ العلماءان المہدی ھو القائم فی آخر الوقت، انّہ یملاء الارض عدلاً والاحادیث فیہ وفی ظہورہ كثیرہ ۔“
وہ چیز جس پر علماءاسلام كا اتفاق ہے وہ یہ ہے
 مہدی قائم كی شخصیت جو آخری زمانے میں ظہور فرمائیں گے اور زمین كو عدل سے پر كر دیں گے۔ اورحضرت مہدی (عج) كے وجود اورظہور كے بارے میں احادیث بہت زیادہ ہیں۔
ابن ابی الحدید معتزلی
 ” شرح نہج البلاغہ “ میں لكھتے ہیں :
”قد وقع اتفاق الفریقین من المسلمین اجمعین علی انّ الدنیا والتكلیف لاینقض الّا علیہ۔“
تمام شیعہ وسنی مسلمانوں كا اس بات پر اتفاق ہے كہ یہ
 دنیا اور تكلیف ختم نہیں ہوگی مگر یہ كہ حضرت مہدی پر، یعنی حضرت مہدی كے ظہور كے بعد۔
 شیخ علی نامف ”غایة المامول“ میں لكھتے ہیں:
”اتّضح مماسبق ان المہدی المنتظر من ہذہ الامة وعلی ہذا سلفاً وخلفاً۔
” مہدی منتظر اسی امت میں سے ہیں اوراہل سنت میں سے جو لوگ گزر گئے اور جو آنے والے ہیں سب كا یہی عقیدہ تھا اور ہے ۔“
 علامہ شیخ محمد سفاری حنبلی ؛ ” لوایع الانوار البہیّة“ میں لكھتے ہیں:
”فاالایمان بخروج المہدی واجب كما ہو مقرر عنداہل العلم ومدوّن فی عقاید اہل السنہ والجماعة
امام مہدی كے خروج اور ظہور پر ایمان ركھنا واجب ہے جیسا كہ یہ بات اہل علم كے نزدیك مشخص اور عقائد ہ اہل سنت والجماعت میں لكھی ہوئی ہے ۔
 جناب ابن خلدون ” المقدمہ میں لكھتے ہیں :
”اعلم
 انّ المشہور بین الكافہ من اہل الاسلام علی ممرالاعصار انّہ لابدّ من آخر الزمان من ظہور رجل من اہل البیت یوید الدّین ویظہر العدل ویتبعہ المسلمون ویستولی علی الممالك الاسلامیہ ویُسمی باالمہدی “
” جان لیں !
تمام اہل اسلام [اعم از شیعہ وسنی ] میں یہ بات مشہور تھی اورہے كہ آخر ی زمانے میں اہل بیت پیغمبر میں سے ایك شخص ظہور فرمائے گا وہ دین كی مدد كرے گا اور عدل كا قیام كرے گا اورتمام مسلمان اس كی پیروی كریں گے، وہ اسلامی ممالك كی سرپرستی كرے گا اوراس كا نام مہدی ہوگا۔
 علامہ محمد جواد مغنیہ مصری
 ” الشیعہ والتشیع “ كے ص، ۶۳۲ پر لكھتے ہیں
 ”وجود مہدی (عج) كو عقل كے سامنے پیش كیا تو انكار نہیں كیا، قرآن كی طرف رجوع كیا تو اس موضوع كے مشابہ بہت پایا، حدیث نبوی كی طرف مراجعہ كیا، حدیثیں بہت زیادہ تھیں، اہل سنت والجماعت كی كتابوں میں تلاش وجستجو كی تو سب كو اپنا ہم عقیدہ پایا، پس كس طرح یہ مسئلہ [مہدی (عج)] مسائل خرافی میں سے ہے ؟
 فاضل مصنف حضرت مہدی (عج) كے بارے میں علماءاہل سنت كے اقوال كو بیان كرنے كے بعد لكھتے ہیں”
 پس یہ مہدی (ع) جسے
 ترمذی،
 ابن ماجہ،
 ابی داوود،
 ابن حجر،
 ابن صباغ مالكی
وصفدی
 وغیرہ كہتے ہیں
 وہی مہدی موعود ہیں جن كے وجود كے شیعہ قائل ہیں :
 اگر حضرت مہدی (عج) كا وجود مسائل خرافی میں سے ہے تو اس كے ،ذمہ دار خود پیغمبراكرم (ص) ہیں، اور وہ لوگ جو وجود مہدی (ع) كا مذاق اڑاتے ہیں حقیقت میں یہ لوگ اسلام اور رسول اكرم (ص)كا مذاق اڑاتے ہیں، كیوں كہ پیغمبراكرم (ص) نے فرمایا:
من انكر المہدی فقد كفر بما انزل علیٰ محمد “ جس نے مہدی كا انكار كیا وہ كافر ہوگیا ۔
قاضی بھلول آفندی
 المحاكمہ فی تاریخ آل محمد “
میں لكھتے ہیں
”انّ ظہورہ امراتفق علیہ المسلمون فلا حاجة الیٰ ذكر الدلیل
۔“حضرت مہدی (عج) كا ظہور ایك ایسا امر ہے جس پر تمام مسلمانوں كا اتفاق ہے، لہذا كسی دلیل كے ذكر كرنے كی ضرورت نہیں ہے ۔
یہ  بزرگ سنی علماء كے اقوال
 جن میں وجود اور ظہور حضرت امام مہدی (عج) پر اجماع كا دعوی كیا گیا ہے ۔
اہل سنت كے چاروں امام
 اور عہد حاضر میں مسلمانوں كے تمام مكاتب فكر
 حضرت امام مہدی (عج) كے ظہور اورآمد پر متفق ہیں

shiasindh: IMAM SAJJAD Ali Ibn al-Hussein Zaynul Abideen (...

shiasindh: IMAM SAJJAD Ali Ibn al-Hussein Zaynul Abideen (...

IMAM SAJJAD Ali Ibn al-Hussein Zaynul Abideen (a.s)... COMPLETE LIFE HISTORY....









































Saturday, 19 February 2011

تحمید وستائش کے بعد رسول صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دورد وسلام کے سلسلہ میں امام علي ابن الحسين زين العابدين صلوات الله عليه السلام کی دعا


1
تحمید وستائش کے بعد
رسول صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دورد وسلام
کے سلسلہ میں آپ کی دعا
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے اپنے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے ہ پر وہ احسان فرمایا جو نہتہ امتوں پر کیا اورنہ پہلے لوگوں پر۔ اپنی قدرت کی کار فرمائی سے جو کسی شے سے عاجز ودرماندہ نہیں ہوتی اگرچہ وہ کتنی ہی بڑی ہو اورکوئی چیز اس کے قبضہ سے نکلنے نہیں پاتی اگرچہ وہ کتنی ہی لطیب ونازک ہو ا س نے اپنے مخلوقات میں ہمیں آخری امت قرار دیا اورانکا کرنے والوں پر گواہ بنایا ۔ اوراپنے لطف وکرم سے کم تعداد والوں کے مقابلہ میں ہمیں کثرت دی۔ اے اللہ ! تورحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر جو تیری وحی کے امانتدار تمام مخلوقات میں تیرے برگزیدہ ، تیرے بندوں میں پسندیدہ رحمت کے پیشوا ، خیر وسعادت کے پیشتر وبرکت کا سرچشمہ تھے جس طرح انہوں نے تیری شریعت کی خاطر اپنے کو مضبوطی سے جمایا اورتیری راہ میں اپنے جسم کو ہر طرح کے آزار کا نشانہ بنایا اورتیری طرف دعوت دینے کے سلسلہ میں اپنے عزیروں سے دشمنی کا مظاہرہ کیا،اورتیری رضا کے لیے اپنے قوم قبیلے سے جنگ کی اورتیرے دین کو زندہ کرنے کے لیے سب رشتے ناطے قطع کر لئے ۔ نزدیک کے رشتہ داروں کو انکار کی وجہ سے دور دیا اوردور والوں کو اقرار کی وجہ سے قریب کیا۔ اورتیری وجہ سے دوروالوں سے دوستی اورنزدیک والوں سے دشمنی رکھی اور تیرا پیغام پہنچا نے کے لیے تکلیفیں اٹھائیں اوردین کی طرف دعوت دینے کے سلسلہ میں زحمتیں برداشت کیں اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے پند ونصیحت کرنے میں مصروف رکھا جنہوں نے تیری دعوت کو قبول کیا ۔ اوراپنے مضل سکونت ومقام رہائش اورجائے ولادت ووطن مالوف سے پردیس کی سرزمین اوردور ودراز مقام کی طر ف محض اس مقصد سے ہجرت کی کہ تیرے دین کو مضبوط کریں اور تجھ سے کفر اختیار کرنے والوں پر غلبہ پائیں یہاں تک کہ تیرے دشمنوں کے بارے میں جو انہو ں نے چاہا تھا وہ مکمل ہو گیا اورتیرے دوستوں (کو جنگ وجہاد پر آمادہ کرنے ) کی تدبیریں کامل ہو گئیں تو وہ تیری نصرت سے فتح وکامرانی چاہتے ہوئے اوراپنی کمزوری کے با وجود تیری مدد کی پشت پناہی پر دشمنوں کے مقابلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اوران کے گھروں کے حدود میں ان سے لڑے یہاں تک کہ ان گھروں کے وسط میں ان پر ٹوٹ پڑے ۔ یہاں تک کہ تیرا دین غالب اورتیرا کلمہ بلند ہو کر رہا۔ اگرچہ مشرک اسے ناپسند کرتے رہے ۔ اے اللہ انہو ں نے تیری خاطر جو کوششیں کی ہیں ان کے عوض انہیں جنت میں ایسا بلند درجہ عطا کر کہ کوئی مرتبہ میں ان کے عوض انہیں جنت میں ایسا بلند درجہ عطا کر کوئی مرتبی ان میں ان کے برابر نہ ہو سکے اور نہ منزلت میں ان کا ہم پایہ قرار پا سکے اورنہ کوئی مقرب بارگاہ فرشتہ اورنہ کوئی فرستادہ پیغمبرتیرے نزدیک ان کا ہمسر ہو سکے اوران کے اہل بیت اطہار اورمومنین کی جماعت کے بارے میں جس قابل قبول شفاعت کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اس وعدہ سے بڑھ کر انہیں عطا فرما اے وعدہ کے نافذ کرنے والے قول کے پورا کرنے اوربرائیوں کو کئی گنا زائد اچھائیوں سے بدل دینے والے بے شک تو فضل عظیم کا مالک ہے ۔


آيات قرآني اور فتنہ خبيث درخت اور فتنہ

آيات قرآني اور فتنہ

خبيث درخت اور فتنہ

اور جب ہم نے تم سے کہہ ديا کہ
تيرے رب نے سب کو قابو ميں کر رکھا ہے
اور وہ خواب جو ہم نے تمہيں دکھايا اور
وہ خبيث درخت جس کا ذکر قرآن ميں ہے
ان سب کو ان لوگو ں کے ليے فتنہ بنا ديا
اور ہم تو انہيں ڈراتے ہيں
سو اس سے ان کي شرارت اوربھي بڑھتي جاتي ہے
(  سورة الإسراء  60)
اور فتنہ انگيزي تو قتل سے بھي بڑا جرم ہے
 _
کے متعلق پوچھتے ہيں کہہ
دو اس ميں لڑنا بڑا گناہ ہے
اور الله کے راستہ سے روکنا
اور اس کا انکار کرنا
اور مسجد حرام سے روکنا
اور اس کے رہنے والوں کو اس ميں سے نکالنا
الله کے نزديک اس سے بڑا گناہ ہے
اور فتنہ انگيزي تو قتل سے بھي بڑا جرم ہے
اور وہ تم سے ہميشہ لڑتے رہيں گے يہاں تک کہ
تمہيں تمہارے دين سے پھير ديں
اگر ان کا بس چلےاور جو تم ميں سے اپنے دين سے پھر جائے
پھر کافر ہي مرجائے پس يہي
وہ لوگ ہيں کہ ان کے عمل دنيا اور آخرت ميں ضائع ہو گئے
اور وہي دوزخي ہيں جو اسي ميں ہميشہ رہيں گے
(  سورة البقرة : 217)
اکثر اندھے اور بہرے
 _
گمان کيا کہ کوئي فتنہ نہيں ہوگا
اور يہي گمان کيا کہ کوئي فتنہ نہيں ہوگا
پھر اندھے اور بہرے ہوئے
پھر الله نے ان کي توبہ قبول کي
پھر ان ميں سے اکثر اندھے اور بہرے ہو گئے
اور جو کچھ وہ کرتے ہيں الله ديکھتا ہے
(  سورة المائدة : 71)
تم نے اپنے آپ کو فتنہ ميں ڈالا
_________________________________
وہ انہيں پکاريں گے کيا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے
وہ کہيں گے کيوں نہيں
ليکن تم نے اپنے آپ کو فتنہ ميں ڈالا
اور راہ ديکھتے اور شک کرتے رہے اور تمہيں آرزوؤں نے دھوکہ ديا يہاں تک کہ الله کا حکم آ پہنچا اور تمہيں الله کے بارے ميں شيطان نے دھوکہ ديا
(  سورة الحديد 14)
اس فتنہ سے بچتے رہو خاص ظالموں پر ہي نہ پڑے گا

اور تم اس فتنہ سے بچتے رہو
جو تم ميں سے خاص ظالموں پر ہي نہ پڑے گا
اور جان لو کہ بے شک الله سخت عذاب کرنے والا ہے
( سورة الأنفال:25)
ملک ميں فتنہ پھيلے گا

اور جو لوگ کافر ہيں وہ ايک دوسرے کے رفيق ہيں
اگر تم يوں نہ کرو گے تو
ملک ميں فتنہ پھيلے گا اوروہ بڑا فساد ہوگا
(  سورة الأنفال  73)


خبردار!وہ فتنہ ميں پڑ چکے ہيں
اور ان ميں سے بعض کہتے ہيں کہ
مجھے تو اجازت ہي ديجيئےاور فتنہ ميں نہ ڈاليے
خبردار!وہ فتنہ ميں پڑ چکے ہيں
اوربے شک دوزخ کافروں پر احاطہ کرنے والي ہے
(  سورة التوبة 49)

FITNAH HADITH SAHIH BUKHARI AND SUNNAN ABU DAUD ................Fitnah 'Qit alal (fighting caused by afflictions)...


FITNAH HADITH
SAHIH BUKHARI AND SUNNAN ABU DAUD
___________________________________________
Fitnah 'Qit alal  (fighting caused by afflictions)

1. Narrated Said bin Jubair:
Ibn 'Umar came to us and a man said (to him),
"What do you think about 'Qit-alal-fitnah' (fighting caused by afflictions)
." Ibn 'Umar said (to him),
"And do you understand what an affliction is?
Muhammad used to fight against the pagans, and his fighting with them was an affliction, (and his fighting was) not like your fighting which is carried on for the sake of ruling."
(Bukhari Book #60, Hadith #174)


2. Narrated Abdullah ibn Mas'ud:
The Prophet (peace_be_upon_him) said:
four (majestic) trials (fitnahs) will take place among this community, and in their end there will be destruction.
 (Abudawud Book #35, Hadith #4229)
3. Narrated Abdullah ibn Umar:
When we were sitting with the Apostle of Allah (peace_be_upon_him),
he talked about periods of trial (fitnahs), mentioning many of them. When he mentioned the one when people should stay in their houses, some asked him: Apostle of Allah, what is the trial (fitnah) of staying at home?
He replied:
It will be flight and plunder. Then will come a test which is pleasant.
Its murkiness is due to the fact that it is produced by a man from the people of my house, who will assert that he belongs to me, whereas he does not, for my friends are only the God-fearing.
Then the people will unite under a man who will be like a hip-bone on a rib. Then there will be the little black trial which will leave none of this community without giving him a slap, and when people say that it is finished, it will be extended. During it a man will be a believer in the morning and an infidel in the evening, so that the people will be in two camps: the camp of faith which will contain no hypocrisy, and the camp of hypocrisy which will contain no faith. When that happens, expect the Antichrist (Dajjal) that day or the next.
(Abudawud Book #35, Hadith #4230)
4. Narrated Hudhayfah ibn al-Yaman:
I swear by Allah, I do not know whether my companions have forgotten or have pretended to forgot.
I swear by Allah that the Apostle of Allah (peace_be_upon_him)
did not omit a leader of a wrong belief (fitnah)--up to the end of the world--whose followers reach the number of three hundred and upwards but he mentioned to us his name, his father's name and the name of his tribe.
(Abudawud Book #35, Hadith #4231)


5. Narrated Hudhayfah:
I asked: Apostle of Allah, will there be evil after this good? He replied:
There will be trial (fitnah) and evil. I asked: Apostle of Allah, will there be good after this evil? He replied: Learn the Book of Allah, Hudhayfah, and adhere to its contents.

He said it three times. I asked:
Apostle of Allah, will there be good after this evil? He replied: An illusory truce and a community with specks in its eye.
I asked:
Apostle of Allah, what do you mean by an illusory community?
He replied:
The hearts of the people will not return to their former condition.
I asked:
Apostle of Allah, will there be evil after this good?
He replied:
There will be wrong belief which will blind and deafen men to the truth in which there will be summoners at the gates of Hell. If you, Hudhayfah, die adhering to a stump, it will be better for you than following any of them.
(Abudawud Book #35, Hadith #4234)



6. The Prophet (peace_be_upon_him) said:
There will be civil strife (fitnah)
which will render people deaf, dumb and blind regarding what is right.
Those who contemplate it will be drawn by it, and giving rein to the tongue during it will be like smiting with the sword.
 (Abudawud Book #35, Hadith #4251)

7. Narrated Sa'id ibn Zayd:
We were with the Prophet (peace_be_upon_him).
He mentioned civil strife (fitnah) and expressed its gravity. We or the people said:
Apostle of Allah, if this happens to us it will destroy us.
The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) said;
No.
It is enough for you that you would be killed.
Sa'id said:
I saw that my brethren were killed.
(Abudawud Book #35, Hadith #4264)


8. Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As:
When we were around the Apostle of Allah (peace_be_upon_him),
he mentioned the period of commotion (fitnah) saying: When you see the people that their covenants have been impaired,
(the fulfilling of)
the guarantees becomes rare,
and they become thus (inter wining his fingers).
I then got up and said:
What should I do at that time, may Allah make me ransom for you?
He replied:
Keep to your house,
control your tongue,
accept what you approve,
abandon what you disapprove,
attend to your own affairs,
and leave alone the affairs of the generality.
(Abudawud Book #37, Hadith #4329)