بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقدمہ
لفظ شیعہ روز اول ہی سے اللہ والوں کیلئے استعمال ہوتا رہا ہے خداوند متعال نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
(اور موسی شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غفلت کی نیند میں تھے تو انہوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کے شیعوں میں سے تھا ااور ایک ان کے دشمنوں میں سے۔ تو جو ان کے شیعوں میں سے تھا اس نے دشمن کے ظلم کی فریاد کی تو موسی نے ایک گھونسہ مار کر اس کی زندگی کا فیصلہ کر دیا)
(سورة قصص:١٥)۔
اس قرآنی اصطلاح سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ نبی کے چاہنے والے اور مظلوم کو شیعہ کہا جاتا ہے اور اسکے مقابلے میں جوبھی رہا ہے اسے دشمن پیغمبر ۖ کہا گیا۔
اسی طرح سورہ مبارکہ صافات میں ارشاد فرمایا: (انّ من شیعتہ لابراھیم) (صافات:٨٣) اور یقیناً نوح ہی کے شیعوں میں سے ابراہیم بھی تھے۔
لفظ شیعہ نیک کردار افراد کے لیے ایک قرآنی اصطلاح ہے اس لیے جناب ابراھیم کو ان کے اتباع کی بناء پر جناب نوح کے شیعوں میں سے قرار دیا گیا ہے جب کہ بعض مفسّرین کے مطابق دونوں کے درمیان ٢٦٤٠ سال کا فاصلہ ہے تواگر اس طویل فاصلہ کے بعد جناب ابراھیم جناب نوح کے شیعوں میں شمار ہوسکتے ہیں تو اتباع اور پیروی کی بنا پر آج کے مومنین شیعہ علی کیوں نہیں ہوسکتے ہیں جن کے بارے میں خود پیغمبر اسلام ۖ نے متعدد مقامات پر بشارت دی ہے کہ اے علی تم اور تمہارے شیعہ کامیاب وکامران ہیں۔
رسول مکرم اسلام نے شیعیان علی کے مقام ومنزلت کو بیان کرتے ہوئے جو فضیلتیں بیان کی ہیں انہیں پڑھ کر ہر منصف مزاج اور حق پسند انسان اس نورانی مذہب کی پیروی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اگرچہ شیعہ کتب اس مذہب کے فضائل سے بھری پڑی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اہل سنت کی معتبر کتب میں بھی ایسی احادیث کم دکھائی نہیں دیتیں اور یہ خود اس مذہب اور اس کے پیروکاروں کی حقانیت کی واضح دلیل ہے۔
لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ آمریکہ اور سعودی عرب کے دستر خوان پر پلنے والے کچھ ملّاں ان حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے کم پڑھے لکھے مسلمانوں کو شیعوں کے خلاف اکسانے کی خاطر اس مذہب کے پیروکاروں کے خلاف جھوٹ اور تہمت جیسے گناہوں سے بھی گریز نہیں کرتے۔
شیعیان علی سے خدا کا راضی ہونا
١:۔ عن ابن عباس قَال: لَمَّانَزَلَتْ (اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ أُوْلٰئِکَ ھُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ [1]) قَالَ رَسولُ اللہِۖ لِعَلِیٍّ: ھُم أَنتَ وَشِیعتُکَ یَومَ القِیامةِ رَاضِین مَرضِیّینَ[2].
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیںکہ جب یہ آیت (ان الذین آمنوا وعملوا الصلحٰت أولئک ھم خیر البریّة ) نازل ہوئی تو رسول خدا ۖ نے حضرت علی سے فرمایا: وہ آپ اور آپکے شیعہ ہیں روز قیامت یہ لوگ خدا سے راضی ہوں گے اور خدا ان سے راضی وخوشنود ہوگا۔
شیعیان علی کی عاقبت
٢:۔ عن ابن عباس قال: لمانزلت (اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ أُوْلٰئِکَ ھُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) قال رسولُ اللہِۖ لِعَلِیٍّ: أنتَ وَشِیعتُکَ تَأتِی یومَ القیامةِ رَاضِینَ مَرضِیّینَ وَیَأتِی عَدُوُّکَ غَضباناً مُقْمحِینَ. فَقال: مَنْ عَدُوِّیْ؟ قالَ: مَنْ تَبَرّأ َمِنکَ وَلَعنکَ[3].
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت (اور بے شک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بہترین مخلوق ہیں ) نازل ہوئی تو رسول خدا ۖ نے حضرت علی سے فرمایا: آپ اور آپکے شیعہ روز قیامت ایسی حالت میں آئیں گے کہ آپ خدا سے راضی ہوں گے اور خدا پ سے راضی وخوشنود ہوگا۔ جبکہ آپ کے دشمن ناراضگی کی حالت میں سرجھکائے ہوئے میدان محشر میں وارد ہوں گے۔ حضرت علی نے عرض کیا: (یارسول اللہ ۖ) میرے دشمن کون ہیں؟ فرمایا: جو آپ سے اظہار بیزاری کرے اور آپ پر (نعوذباللہ) لعنت کرے۔
شیعیان علی خدا کی بہترین مخلوق
٣:۔عن جابر بن عبداللہ قال: کُنَّا عِند النبیِۖ فَأَقْبلَ عَلِیّ فقال النبیُۖ: وَالذِی نَفسِی بِیَدہِ اِنَّ ھَذا وَشِیعتَہُ لَھُم الفائزونَ یَومَ القِیامَةِ۔ وَنزلتْ (اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ أُوْلٰئِکَ ھُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) فَکانَ اَصحابُ النبیِۖ اِذَا أَقْبلَ عَلِیّ قَالُوا: جَائَ خَیْرُ البَرِیَّةُ[4].
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول خدا ۖ کی خدمت میں موجود تھے اتنے میں علی بھی تشریف لائے تو آنحضرتۖ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک یہ اور اسکے شیعہ قیامت کے دن کامیاب وکامران ہیں اور یہ آیت (اور بے شک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بہترین مخلوق ہیں ) نازل ہوئی ۔ اسکے بعد جب بھی اصحاب پیغمبر ۖ حضرت علی کو آتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے:خیر البریّة (بہترین مخلوق) آگئے۔
شیعیان علی نورانی چہروں والے
٤: عن علی علیہ السلام قال: قال لی رسول اللہ ۖ:
أَلَمْ تَسْمَعْ قَولُہ تعالٰی(اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ أُوْلٰئِکَ ھُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) ھُمْ أَنْتَ وَشِیْعَتُکَ وَمَوْعِدِی وَمَوعدکُمْ الحوضَ اِذَا جَائَتِ الاُمَمُ لِلحسابِ تُدعونَ غُرّاً مُحَجِّلِیْنَ[5]۔
ترجمہ:
حضرت علی علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ۖ نے مجھ سے فرمایا: کیا آپ نے خداوند متعال کا یہ فرمان نہیں سنا: (اور بے شک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بہترین مخلوق ہیں )
وہ آپ اور آپ کے شیعہ ہیں میری اور آپ کی وعدہ گاہ حوض کوثر ہے جب تمام امتیں حساب وکتاب کیلئے آئیں گی تو تمہیں دعوت دی جائے گی جبکہ تمہارے چہرے روشن ودرخشاں ہوں گے۔
شیعیان علی جنتی مخلوق
عن علی وفاطمة وامّ سلمة وأبی سعید أنّ النبی ۖ قال لعلیٍّ:
اِنَّکَ وَشِیْعَتُکَ فِیْ الْجَنَّةِ[6].
ترجمہ:
حضرت علی ، فاطمہ، امّ سلمیٰ اور ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ۖ نے حضرت علی سے فرمایا:
بے شک آپ اور آپ کے شیعہ جنّتی ہیں۔
شیعیان علی اور پنجتن کی ہمراہی
٦:عن أحمد قال النبیۖ لعلِیٍّ: أَمَاتَرْضٰی أَنّکَ مَعِیْ فِی الجَنّةِ وَالْحسنَ وَالْحسینَ وَذُریَّاتِنَا خَلفَ ظُھورِنَا وَأَزواجِنَا خَلْفَ ذُرِیّاتِنَا وَشِیعتَنَا عَنْ أیمانِنَا وشَمائلِناَ[7]؟
ترجمہ:
احمد بن حنبل نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا ۖ نے حضرت علی سے فرمایا:
کیا آپ اس پر راضی نہیں ہیں کہ جنّت میں آپ میرے ہمراہ ہوں گے اور حسن وحسین ہمارے پیچھے اور ہماری ازواج انکے پیچھے ہوں گی اور ہمارے شیعہ ہمارے اطراف میں ہوں گے۔
شیعیان علی ہی کامیاب ہیں
عن امّ سلمة قال النبیۖ :
شِیْعَةُ عَلِیٍّ ھُمُ الفَائِزُوْنَ یَوْمَ القِیَامَةِ[8].
ترجمہ:
حضرت امّ سلمیٰ روایت کرتی ہیں کہ رسول خدا ۖ نے فرمایا:
علی کے شیعہ ہی قیامت کے دن کامیاب ہوں گے۔
شیعیان علی سب سے پہلے جنت میں جانے والے
٨:۔ قال النبیۖ:
(حینما شکیٰ علی ّ رسولَ اللہِۖ حسد الناسِ اِیّاہُ)
یَاعَلِیُّ ! اِنّ أَوّلَ أَرْبعةٍ یَدخُلونَ الجَنّةَ أَنَا، وَأَنتَ وَالحسنُ وَالحسینُ وَذَرَارِیْنَا خَلْفَ ظُھُوْرِنَا وَأَزْواجُنا خَلف ذَرَارِیْنَا وَشِیْعَتُنَا عَنْ أَیْمَانِنَا وَشَمَائِلَنَا[9]
ترجمہ:
)جب حضرت علی نے رسول خدا ۖ سے لوگوں کے حسد کی شکایت کی) تو آنحضرت ۖ نے فرمایا:
اے علی ! سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے چار فرد، میں ، آپ، حسن اور حسین ہوں گے۔ ہماری اولاد ہمارے پیچھے ہوگی اور ہماری بیویاں ہماری اولاد کے پیچھے اور ہمارے شیعہ ہمارے اطراف میں ہوں گے۔
شیعیان علی کی سعادت
٩: عن جابرو ابن عبّاس وأبی سعید الخدری وامّ سلمة:
کُنَّا عِند النَبیِّۖ فأَقْبلَ عَلیُ بنُ أَبی طَالبٍ، فَقالَ النبیُۖ قَد أتاکُم أَخِیْ، ثُمَّ اِلتَفَتَ الی الکعبةِ، فضربھَا بیدہ ثُمَّ قال: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ] اِنَّ ھَذَا[ عَلِیّ وَشِیعتُہُ ھُمُ الفَائزُونَ یومَ القِیَامةِ [10]
ترجمہ:
جابر، عبداللہ بن عباس، ابوسعید خدری اور جناب امّ سلمٰی نقل کرتے ہیں کہ ہم رسول خدا ۖ کی خدمت میں موجود تھے اتنے میں اچانک علی تشریف لائے تو رسول خدا ۖ نے فرمایا:
میرا بھائی تمہارے پاس آیا ہے اور خانہ کعبہ کی طرف متوجہ ہوئے، اپنا دست مبارک دیوار کعبہ پر مار کر فرمایا:
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک علی اور انکے شیعہ روز قیامت کامیاب ہوں گے۔
شیعیان علی کا حوض کوثر پر سیراب ہونا
١٠: قال النبی ۖ :
یَاعَلِیُّ ! أَنْتَ وَشیعتُکَ تَردُونَ عَلَیّ الحوضَ ورودًا روّائَ[11].
ترجمہ:
رسول خدا ۖ نے فرمایا:
اے علی ! آپ اور آپ کے شیعہ حوض کوثر سے سیراب ہو کر میرے پاس پہنچیں گے۔
شیعیان علی کا دوسروں کوسیراب کرنا
١٠: قال رسول اللہ ۖ :
یَاعَلِیُّ ! أَنْتَ وشیعتُکَ تَردُونَ عَلَیّ الحوضَ
روّاةً مرویّینَ مبیضّةً وُجوھکم، وأنّ أعدائک یردون علیَّ الحوضَ ظَمآئَ مُقمحینَ[12] (١)
ترجمہ:
رسول خدا ۖ نے علی سے فرمایا:
آپ اور آپ کے شیعہ حوض کوثرپر میرے پاس ایسی حالت میں وارد ہوں گے کہ خود بھی سیراب ہوں گے اور دوسروں کو بھی سیراب کریں گے۔
جبکہ آپ کے دشمن پیاس کی حالت میں سرجھکائے حاضر ہوں گے۔
شیعیان علی پر ملائکہ کی شفقت
١٢: عن جابر قَالَ رسولُ اللہِ ۖ:
وَالَّذِی بَعثنِی بِالحَقِّ نَبِیًّا، اِنّ المَلائکةَ تَستغفرُ لِعَلِیٍّ وَتَشفِقُ عَلیہِ وَعَلیٰ شِیعَتِہِ أَشفقَ مِن الوَالدِ عَلٰی وَلَدِہِ[13].
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ۖ نے فرمایا:
قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا۔ بے شک ملائکہ علی کیلئے استغفار کرتے ہیں اور ان پر اور ان کے شیعوں پر باپ سے بھی بڑھکر شفقت کرتے ہیں ۔
شیعیان علی کا بارگاہ خدا میں حاضر ہونا
عن علیّ علیہ السلام قال:
اِنَّ خَلِیلِی(رسول اللہ)ۖ قَالَ: یاَعَلِیُّ: أنکَ تَقْدمُ علَی اللہِ وَشیعتُک رَاضِینَ مَرضیّینَ ویَقْدِمُ عدوُّکَ غَضباناً مُقمحِینَ[14].ثُمَّ جمعَ علیٰ یدہ الیٰ عُنُقہ یُریھمُ الأَقماحَ[15].
ترجمہ:
حضرت علی سے روایت ہے کہ میرے خلیل (رسول خدا ) ۖ نے فرمایا:اے علی ! آپ اور آپکے شیعہ بارگاہ خداوندی میں ایسی حالت میں آئیں گے کہ آپ خدا سے راضی ہوں گے اور خدا آپ سے راضی وخوشنود ہوگا۔ جبکہ آپ کے دشمن ناراضگی کی حالت میں سرجھکائے ہوئے خدا کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ اور پھر آنحضرت ۖ نے اپنے ہاتھوں کو گردن میں ڈال کر ان کی حالت کو بیان فرمایا۔
شیعیان علی کیلئے ملائکہ کا استغفار کرنا
عن أنس (عن النّبیۖ) حدّثنی جبرائیلُ وقالَ:
اِنَّ اللہَ لایحبُّ المَلائکةَ مثلَ حُبِّ علیٍّ، ومامن تسبیحة تُسبّح للہ الا ویخلقُ اللہُ ]بھا[ ملکاً یستغفرُ لمحبّیہِ وشیعتہِ الی یوم القیامة[16].
ترجمہ:
انس بن مالک (نے پیغمبر اکرم ۖ سے نقل کیا ہے) کہ مجھے جبرائیل نے خبر دی: بے شک خداوند متعال علی کے مانند ملائکہ کو بھی محبوب نہیں رکھتا اور جب بھی خدا کیلئے کوئی تسبیح کی جاتی ہے تو وہ ہر تسبیح کے بدلے میں ایک فرشتہ خلق کرتا ہے جو قیامت تک علی اور انکے شیعوں کیلئے استغفار میں مشغول رہتا ہے۔
شیعیان علی کیلئے رسول خدا ۖ کا استغفار کرنا
عن جابر بن عبداللہ الأنصاری قال: خطبنا رسولُ اللہِ فسمعتُہ یقول: أیّھاالنّاس! من أبغضنا أھلَ البیتِ حشرہُ اللہُ یوم القیامة یھودیّاً.
فقلتُ: یارسول اللہ وان صام وصلیّ؟ قال: وان صام وصلیّ وزعم أنّہ مسلم احتَجَر بذلک من سفک دمہ وان یؤدی الجزیةَ عن ید وھم صاغرونَ. مُثِّلَ لِی اُمّتی فی الطین فمرّ بی أصحابُ الرّایات فاستغفرتُ لِعلیٍّ وشِیعتِہِ[17].
ترجمہ:
'' حضرت جابر بن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ۖ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! جوشخص میرے اہل بیت سے بغض رکھے گا خدواند اُسے یہودی محشور کرے گا۔
میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اگرچہ وہ نماز وروزے کے پابند ہو؟! فرمایا: ہاں اگرچہ وہ نماز وروزے کا پابند ہی کیوں نہ ہو اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے۔ البتہ اس کا مسلمان ہونے کا اظہار کرنااسکے مال وجان کے محترم ہونے اور مالیات (ٹیکس) سے بچنے کا باعث بنے گا۔ میری امت جب مٹی وپانی میں تھی تو اسے میرے سامنے پیش کیا گیا۔ مختلف گروہ پرچم اٹھائے میرے سامنے سے گذرے تو میں نے علی اور انکے شیعوں کیلئے مغفرت طلب کی''.
شیعیان علی کیلئے پیغمبرۖ کی شفاعت
١٦:۔ قال النبیُۖ لعلیّ :
بَشِّرْ شیعتکَ أنَا الشَّفِیعُ لَھمْ یوم القیَامةِ وقتاً لایَنفعُ مَال ولابَنون الا الشَّفاعَة[18].
ترجمہ:
رسول خدا ۖ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:
اے علی ! اپنے شیعوں کو خوشخبری دے دے کہ روز قیامت جب شفاعت کے سوا نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد تو اُسوقت میں ان کی شفاعت کروں گا۔
شیعیان علی سے محبت کرنے والوں کی بخشش
١٧: قال النبی ۖ :
یَاعَلِیُّ! اِنَّ اللہَ قَد غَفرلَکَ ولِذُرِّیَّتکَ وَولدک وَلِأھْلک وَلِشیعتِکَ وَلِمُحِبِّی شِیعَتکَ[19].
ترجمہ:
پیغمبر اکرم ۖ نے فرمایا:
اے علی ! خداوند متعال نے آپ ، آپ کی اولاد ، آپ کے اہل بیت، آپ کے شیعوں اور آپ کے شیعوں کو دوست رکھنے والوں کو بھی بخش دیا ہے۔
شیعیان علی کیلئے پیغمبرۖ کی بشارت
١٨: عن أبی جعفر المنصور، عن جدّہ، عن ابن عباس قال: کُنَّا جلوساً بِبَابِ دَارِہ فَاذًا فَاطِمةُ قَد أَقبلتْ وَھِیَ حَامِلَةُ الحُسینِ، وَھِیَ تََبْکِی بُکَائً شَدیدًا، فَاسْتَقْبَلَھا رسولُ اللہِ ۖ، فَتَناوَلَ الحُسینَ مِنْھَا، وَقَالَ لَھَا: مَایُبْکِیْکِ یَافاطمة؟ قَالَتْ: یَاأَبَةَ عیرتَنِی نِسَائُ قُریش وَقُلْنَ: زَوَّجَکَ أَبُوکَ مَع مَالَاشَیئَ لَہُ، فَقالَ النَّبیُۖ: مَھْلاً وَاِیَّایَ أَنْ أَسْمَعَ ھَذَا مِنْکِ... قُومِی یَافاطمةُ، اِنَّ عَلِیًّا وَشِیعتُہُ ھُمُ الفَائِزُونَ غَداً [20]
ترجمہ:
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ہم رسول خدا ۖ کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ اچانک فاطمہ ، حسین کو اٹھائے ہوئے روتی ہوئی داخل ہوئیں۔
آپۖ نے آگے بڑھ کر حسین کو ہاتھوں پہ لیا اور فرمایا: اے فاطمہ کیوں رورہی ہو؟
عرض کیا: اے بابا جان: قریش کی عورتیں مجھے طعنہ دے رہی ہیں کہ تمہارے باپ نے تمہاری شادی ایسے شخص سے کی ہے جس کے پاس کچھ نہیں۔
رسول خدا ۖ نے فرمایا: صبر کرو اور دوبارہ یہ بات آپ سے نہ سنوں اور پھر (علی کے کمالات وفضائل بیان کرتے ہوئے )فرمایا: اے فاطمہ اٹھو، بے شک علی اور انکے شیعہ روز قیامت کامیاب ہوں گے۔
شیعیان علی درخت نبوت کے پتے
١٩: قَالَ رسولُ اللہِ ۖ :
شَجرةٔ أَنَا أَصلُھَا وعَلیّ فَرعُھَا والحسنُ والحسینُ ثَمرُھَا، والشیعةُ وَرَقُھَا، فَھل یَخرُجُ مِنَ الطیّبِ اِلّا الطَّیّبُ[21]
ترجمہ:
رسول خدا ۖ نے (شجرہ طیبہ کے بارے میں) فرمایا:
وہ ایسا درخت ہے جس کی جڑ میں ہوں، شاخ علی ہے اور اسکا پھل حسن وحسین ہیں اور شیعہ اسکے پتے ہیں۔ پس کیا پاک چیز سے پاک کے سوا کچھ نکل سکتا ہے؟!
شیعیان علی جنتی تختوں پر
٢٠: عن أبی ھُریرة: انّ علی بن أبی طالبٍ قالَ: أیّما أحبة الیک؟ أنا أم فاطمةُ؟
قال ۖ فاطمةُ أَحبُّ الیَّ منکَ، وأنتَ أعَزُّ علیّ منھَا، وکأنّی بکَ، وَأنتَ علی حَوضِی تَذُوْدُ عنہ الناسَ، وأنَّ علیہ لأَبَاریقَ مثلَ عددَ نُجومِ السَّمائِ، وَانِّی وَأنتَ وَالحسنَ والحسینَ وفاطمةَ وعقیلَ وجعفرَ فی الجَنّةِ. ثُمّ قرأَ رسولُ اللہِۖ: (اِخْوَانًا عَلیٰ سُرُرٍ مُتَقٰبِلِیْنَ) [22] لاَیَنظرُ أَحد فِی قَضَا صَاحبہِ. رواہ الطبرانی فی مجمع الاوسط[23].
ترجمہ:
ابوھریرہ نے حضرت علی سے نقل کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول خدا ۖ سے پوچھا: (یارسول اللہ) کیا میں آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہوں یا فاطمہ؟
آپۖ نے فرمایا:فاطمہ مجھے زیادہ محبوب ہیں اور آپ فاطمہ سے زیادہ عزیز ہیں۔ چنانچہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ حوض (کوثر) کے کنارے سے لوگوں (غیروں) کو دور کررہے ہیں جہاں آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ تعداد میں جام موجود ہیں۔ اور میں، آپ، حسن ، حسین ، فاطمہ ، عقیل اور جعفر جنت میں ہوں گے اور پھر رسول خدا ۖنے اس آیت کی تلاوت فرمائی (وہ بھائیوں کی طرح آمنے سامنے تخت پر بیٹھے ہوں گے)۔
شیعیان علی پر نعمتوں کی باران
٢١: قَالَ رسولُ اللہِ ۖ :
یَاعَلِیُ ! اِنَّ شیعتَنَا یَخرُجُونَ من قُبورھِمْ یومَ القِیامةِ مَابِھِمْ مِن العُیوبِ وَالذنوبِ، وُجوھھُمْ کَالْقمرِ فِی لیلةِ البَدرِ، وَقَدْ فُرِجَتْ عَنھُم الشَّدَائدُ، وَسُھِّلَتْ لَھمُ المَواردُ، وأَعطُوْا الأَمنَ والامانَ، وَارْتَفعتْ عَنھمُ الأَحزانُ، یخافُ الناسُ ولایحزنونَ، شُرُکُ نِعَالِھِمْ تَتَلَأْلَؤُنُوْرًا، عَلٰی نُوقٍ بیضٍ لھَا أَجنحة قَد ذُلِّلَتْ من غیرِ مھانةٍ، ونُجِبتْ مِن غیرِ ریاضةٍ ، أَعناقُھا من ذَھبٍ أحمرُ، أَلیَنُ من الحریرِ لکرامتھمْ عَلی اللہِ عَزوجلَّ[24] .
ترجمہ:
رسول خدا ۖ نے فرمایا: اے علی ! ہمارے شیعہ قبروں سے ایسی حالت میں باہر آئیں گے کہ نہ تو ان میں کوئی عیب ہوگا اور نہ ہی کوئی گناہ۔ ان کے چہرے چودہویں کے چاند کے مانند چمک رہے ہوں گے ۔ پریشانیاں اُن سے دور اور راہیں ہموار ہوچکی ہوں گی۔ غم واندوہ برطرف کرکے امن وامان عطاہو گا۔
تمام لوگوں پر غم واندوہ طاری ہوگا لیکن انہیں کوئی پریشانی نہ ہوگی۔ ان کے جوتے نور کے مانند چمک رہے ہوں گے۔ سفید رنگ کی بال وپر والی سواریوں پرسوار ہوں گے جو سکھائے بغیر ہی تربیت یافتہ ہوں گی ۔ ان کی گردنیں سرخ سونے کی ہوں گی لیکن ریشم سے بھی نرم۔ (اور یہ سب نعمتیں) خدا کے نزدیک ان کے مقام ومنزلت کی وجہ سے عطا ہوں گی۔
شیعیان علی کیلئے کعبہ کی گواہی
٢٢: عن جابر بن عبد اللہِ قال:
کُنَّا عِند النَبیِّۖ فأَقْبلَ عَلیُ بنُ أَبی طَالبٍ، فَقالَ النبیُۖ قَد أتاکُم أَخِیْ، ثُمَّ اِلتَفَتَ الی الکعبةِ، فضربھَا بیدہ ثُمَّ قال: والذی نفسی بیدہ اِنّ ھذا وَشیعتہِ ھُمُ الفَائزُونَ یومَ القِیَامةِ [25]۔
ترجمہ:
حضرت جابربن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول خدا ۖ کی خدمت میں موجود تھے کہ اتنے میں اچانک علی تشریف لائے تو رسول خدا ۖ نے فرمایا:
میرا بھائی تمہارے پاس آیا ہے اور خانہ کعبہ کی طرف متوجہ ہوئے، اپنا دست مبارک دیوار کعبہ پر مار کر فرمایا:
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک علی اور انکے شیعہ روز قیامت کامیاب وکامران ہوں گے۔
شیعیان علی اور دامن اہل بیت
٢٣: قَالَ النَبِیُ ۖ :
یَاعَلیُ! اذَا کَانَ یومَ القِیامَةِ أَخَذْتُ بِحُجْزَةِ اللّہِ، وأَخذتَ بِحُجْزَتِیْ، وأَخذ وُلدُکَ بِحجزتِکَ، وأَخذَ شیعةُ ولدِکَ بِحجزتھِمْ، فَتَریٰ أَیْنْ یُؤمرُبِنَا[26].
ترجمہ:
رسول خدا ۖ نے فرمایا:
اے علی ! جب روز قیامت ہوگا تو میں دامن خدا کو تھاموں گا اور آپ میرے دامن کو۔ آپ کی اولاد آپ کے دامن کو تھامے گی اور ان کے شیعہ انکے دامن کو ۔ اُسوقت دیکھنا کہ ہمیں کہاں کا حکم دیا جاتا ہے؟
شیعیان علی کا اہل بیت سے تمسک
٢٤:ابراھیم بن شیبة الانصاری قال: جَلستُ عِندَ أصبغ بن نباتة قال: أَلاأُقرئُکَ مَاأَمْلأَہُ عَلیُّ بنُ أبی طَالَبٍ (رضی اللہ عنہ) فَأَخرجَ صحیفةً فیھَا مکتوب: بِسمِ اللہِ الرَحْمٰن الرَّحیمِ، ھَذَا مَاأَوصٰی بہ محمدۖ أَھلَ بَیتِہِ وأُمّتہِ، وَأَوصیٰ أَھلَ بیتہِ بتقویٰ اللہِ، ولُزُومِ طَاعتہِ، وأوصیٰ أُمّتہِ بلزُومُ أھلَ بیتہِ، وأھلَ بیتہِ یَأخُذونَ بِحُجْزَةِ نَبیّھِمْۖ وأَنّ شِیعتَھُم یَأْخُذونَ بِحُجزَھِم یومَ القیامةِ، وأَنّھُم لَنْ یَدخُلُوکُمْ بَاب ضَلالةٍ ولن یخرجوکُم من بابِ ھُدًی[27].
ترجمہ:
ابراہیم بن شیبہ انصاری کہتے ہیں : میں اصبغ بن نباتہ کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے کہا کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہارے لیے وہ تحریر پڑھوں جسے علی بن ابیطالب نے بیان فرمایا اور پھر ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھاتھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ محمد ۖ کی اپنے اہل بیت اور اپنی امت کے نام وصیت ہے جس میں اپنے اہل بیت کو تقوٰی الہی اور اطاعت خداوند کی سفارش کی ہے اور اپنی امت کو اہل بیت کی اطاعت کا حکم دیا ہے ۔ اہل بیت روز قیامت اپنے نبی ۖ کے دامن سے متمسک ہوں گے اور انکے شیعہ ان کے دامن سے متمسک ہوں گے۔ اور (اہل بیت ) ہرگز تمہیں گمراہی کی طرف راہنمائی نہیں کریں گے اور نہ ہی تمہیں ہدایت سے دور کریں گے۔
شیعیان علی کا بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونا
عن انس بن مالک قال: قال النبیّ ا ۖ :
یَدخُلُ مِن اُمّتیْ الجَنّةَ سَبعونَ ألفاً لَاحِسابَ عَلیھِمْ، ثُمَّ اِلتفتَ اِلیٰ عَلِیٍّ وقالَ: ھُمْ من شِیعَتِکَ وَأَنتَ اِمَامُھُمْ [28].
ترجمہ:
انس بن مالک نے رسول خدا ۖ سے روایت کی ہے کہ آپۖ نے فرمایا:
میری امت کے سترہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے اور پھر علی کی طرف رخ کرکے فرمایا: وہ آپ کے شیعہ ہیں اور آپ ان کے امام ہیں۔
شیعیان علی کا عذاب سے محفوظ رہنا
٢٦:۔ عن ابن عباس: قَالَ النبیُ ا ۖ :
یَدخُلُ مِن اُمّتی سَبعونَ ألفاً لَاحِسَاب عَلَیھِمْ وَلَاعَذَابَ، فقالَ عَلِیّ علیہ السلام: مَن ھُمْ یارسولَ اللہِاۖ ؟ قالَ: ھُمْ شِیعَتُکَ وَأَنتَ اِمَامُھُمْ [29].
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا ۖنے فرمایا:
میری امت کے سترہزار افراد یوں ہی جنت میں جائیں گے کہ نہ تو ان پر عذاب ہوگا اور نہ ہی ان سے حساب لیا جائے گا۔ حضرت علی نے عرض کیا: یارسول اللہ ۖ وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: وہ آپ کے شیعہ ہیں اور آپ ان کے امام ہیں۔
شیعیان علی کا خدا سے وعدہ
٢٧: قَالَ النبیُ ا ۖ :
اِنَّ اللّہَ لَہُ الحَمدُ عَرَضَ حُبَّ عَلیٍّ وَفَاطمةَ وَذُرِّیّتَھُمَا عَلی البَریّةِ، فَمن بَادَرَ مِنھُم بِالاجَابةِ جَعلَ مِنھُم الرُّسُلَ، ومَن أَجابَ بعدَ ذَلکَ جَعلَ مِنھُم الشِّیْعةَ، واَنّ اللہَ جَمعھُم فِی الجَنّةِ[30].
ترجمہ:
رسول خدا ۖنے فرمایا: بے شک تمام تعریفیں خدا کیلئے ہیں۔ اس نے علی ، فاطمہ اور ان کی ذریت کی محبت کو تمام انسانوں کے سامنے پیش کیا جنہوں نے سب سے پہلے اس محبت کو قبول کیا انہیں انبیاء بنا دیا اور جنہوں نے انبیاء کے بعد لبیک کہا انہیں شیعہ بنا دیا۔
اور خداوند متعال نے ان سب کو جنت میں ایک ساتھ جمع کررکھا ہے۔
شیعیان علی پر رسول خدا ۖ کا فخر کرنا
٢٨:عن أبی ذر الغفاری قال:
سَمِعْتُ رَسول اللہِۖ یَقُولُ: لَیسَ أَحد مِثلی صِھرًا أَعطَاہُ الحَوضَ وَجعلَ اِلیہِ قِسْمةَ الجنةِ وَالنَارِ، وَلمْ یُعطِ ذَلکَ المَلائِکةَ، وجَعلَ شِیعتَہُ فِی الجَنَةِ[31].
ترجمہ:
حضرت ابوذرغفاری روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا ۖ سے سنا آپۖ فرما رہے تھے:
میری طرح کسی کا داماد نہیں جسکے اختیار میں خدا نے حوض کوثر رکھا، جنت وجہنم کا تقسیم کرنے والا اسے قرار دیا جبکہ یہ اختیار ملائکہ کو بھی عطا نہ کیا اور انکے شیعوں کو جنت میں مقام عطا کیا۔
شیعیان علی عرش کے سائے میں
٢٩: قَالَ رسولُ اللہ لعلیٍّ:
السَّابِقُونَ اِلٰی ظِلّ العَرشِ یَومَ القِیَامةِ طُوبٰی لَھُمْ ، قِیلَ : یارسولَ اللہ ! مَن ھُمْ؟ قال: شِیعتُکَ یَاعَلِیُ وَمُحِبُّوھُمْ[32].
ترجمہ:
رسول خدا ۖ نے حضرت علی سے فرمایا:
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو روز قیامت سب سے پہلے عرش الہی کے سائے میں پہنچیں گے۔
عرض کیا گیا: یارسول اللہ ۖ! وہ کون لوگ ہیں؟
فرمایا: اے علی ! وہ آپ کے شیعہ اور ان کو دوست رکھنے والے ہیں۔
شیعیان علی کی صحابہ پر فضیلت
٣٠:عن أبی سعید الخدری قال: قال رسول اللہ ۖ:
اِنّ عَن یَمِینِ العرشِ کَرَاسِیّ مِن نُورٍ عَلیھَا أَقوَام تَلألَؤَ وُجوھُھمْ نُورًا۔ فقال أبوبکرٍ: أَنا مِنھُمْ یَانبیّ اللہِ؟ قَال: أنتَ عَلٰی خَیرٍ۔ قَال : فقالَ عُمرُ: یانبیّ اللہِ أنَا مِنھُمْ؟ فقال لہُ مثلَ ذَلکَ۔ وَلٰکِنّھُمْ قوم تَحَابُّوْا مِن أَجْلِی وَھُم ھَذَا وَشِیعَتہِ۔ وَأَشارَ بیدِہِ اِلٰی عَلِیّ بنِ أبیْ طَالبٍ[33]۔
ترجمہ:
ابوسعید خدری رسول اکرم ۖ سے نقل کرتے ہیں کہ آپۖ نے فرمایا:
عرش الہی کے دائیں طرف نور کی کرسیاں لگی ہوئی ہیں جن پر نورانی چہروں والے گوہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ابوبکر کہنے لگے: یانبی اللہ کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آنحضرت ۖ نے فرمایا: تونیکی پر ہے۔ پھر عمر کہنے لگے: یانبی اللہ کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپۖ نے وہی جواب دیا۔ اور پھر فرمایا: یہ وہ قوم جن کی محبت میری خاطر ہے اور وہ یہ علی اور اسکے شیعہ ہیں اور پھر اپنے دست مبارک سے علی بن ابیطالب کی طرف اشارہ فرمایا۔
جنت کی کنجیوں پر شیعیان علی کے نام
٣١: عن جابر: قال رسولُ اللہِ ۖ:
اِذَا کَانَ یَومُ القِیَامةِ یَأْتِینِی جَبرَائِیْلُ وَمِیکَائِیلُ وَبِحَزْمَتَیْنِ مِن المَفاتیحِ: حَزمةٍ مِن مفاتیحِ الجَنّةِ، وحَزمةٍ مِن مفاتیحِ النَّارِ، وَعَلٰی مفاتیحِ الجَنّةِ أَسمائُ المُؤمنینَ مِن شِیعَةِ مُحَمّد ۖ وَعَلیٍ۔ وَعَلٰی مفاتیحِ النّارِ أَسمَائُ المُبغضِینَ مِن أَعدَائہِ۔ فَیقُولانِ لِی: یَاأحمدُ! ھَذا مُحبّک وھذا مُبغضُکَ۔ فَأرفعَھَا اِلٰی عَلِیّ بن أبی طالب فَیحْکُمُ فیھِم بِمَا یُریدُ فَوالّذِی قَسَّمَ الأَرزَاقَ لَایدخلُ مبغضہِ الجنةَ وَلَامُحبّہِ النَّارَ[34]۔
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ۖ نے فرمایا: روز قیامت جبرائیل ومیکائیل چابیوں کے دوتھیلے میرے پاس لائیں گے جن میں ایک تھیلا جنت کی چابیوں کا ہوگا اور دوسرا جہنم کی چابیوں کا۔
جنت کی چابیوں پر محمد ۖ اور علی کے مومن شیعوں کے نام تحریر ہوں گے جبکہ جہنم کی چابیوں پر ان کے دشمنوں کے نام۔اور پھر جبرائیل ومیکائیل مجھ سے کہیں گے: اے احمد! یہ آپۖ کا دوست ہے اور یہ آپکا دشمن ہے۔ اور پھر میں وہ چابیاں علی کے حوالے کردوں گا وہ اپنی مرضی سے انکا فیصلہ کریں گے ۔
قسم ہے رزق تقسیم کرنے والی ذات کی، علی کے دشمن جنت میں داخل نہ ہوں گے اور ان سے محبت کرنے والے جہنم میں داخل نہ ہوں گے۔
شیعیان علی نورانی لباس میں
٣٢: قال رسولُ اللہِ ۖ:
یَاعَلِیُّ ! اِذَا یَومُ القِیَامةِ یَخرجُ قوم مِن قُبورھِمْ لِباسھُمْ النُورُ، عَلٰی نَجائبَ مِن نُورٍ، أَزِمّتُھَا یَوَاقِیتُ حُمُر، تَزُفُّھُمُ المَلائکةُ اِلٰی المَحشرِ، فقالَ عَلِیّ: تَبارکَ اللہُ مَاأکرمَ قومًا عَلَی اللہِ؟ قالَ رسولُ اللہِۖ : یَاعَلِیُّ! ھَم أھلَ وِلایتکَ وَشِیعَتکَ وَمُحِبُّوکَ یُحِبونکَ بحبّی، ویحبّونی بحبِّ اللہِ، وھُم الفَائزُونَ یَومُ القِیَامةِ[35].
ترجمہ:رسول خدا ۖ نے حضرت علی سے فرمایا:
یاعلی !قیامت کے دن ایک گروہ قبروں سے ظاہر ہوگا جبکہ انہوں نے نور کے لباس زیب تن کیے ہوئے ہوں گے اور نورانی سواریوں پر سوار ہوں گے، خدا کے ملائکہ انہیں محشر کی طرف راہنمائی کررہے ہوں گے۔
حضرت علی نے عرض کیا: وہ گروہ کس قدر خدا کے ہاں عزیز ومکرّم ہے؟ آپۖ نے فرمایا: یاعلی ! وہ آپ کی ولایت کو قبول کرنے واے، آپ کے شیعہ اور آپکے محب ہیں جو میری خاطر آپ سے محبت کرتے ہیں اور مجھ سے خدا کی خاطر محبت کرتے ہیں۔ یہی لوگ روز قیامت کامیاب وکامران ہیں۔
اگر سب لوگ شیعہ ہوتے تو خدا جہنم کو خلق ہی نہ کرتا
٣٣: عن ابن عباس : قال رسول اللہ ۖ لِأَمِیرِ المؤمنینَ علیہ السلام:
یَاعَلِیُّ! لَوِاجْتَمعَتْ أَھلِ الدُّنیَا بِأَسْرِھَا عَلٰی وِلَایَتِکَ لَمَا خَلقَ اللہُ النارَ، وَلکن أَنتَ وَشِیعتُکَ الفَائزُونَ یومَ القیامةِ[36].
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ۖ نے حضرت علی سے فرمایا:
اے علی ! اگر ساری دنیا آپ کی ولایت کو قبول کرلیتی تو خدا کبھی جہنم کو خلق نہ کرتا، لیکن جان لو کہ آپ اور آپ کے شیعہ ہی روز قیامت کامیاب ہوں گے۔
شیعیان علی کا دوسروں کی شفاعت کرنا
٣٤: قالَ رسولُ اللہِ ۖ :
لَا تَسْتَخِفُّوا بِشیعَةِ عَلِیٍّ، فَانَّ الرَّجُلَ مِنھُمْ یَشفعُ فِی مِثْلِ رَبِیعَةَ وَمُضَرَ[37].
ترجمہ:
رسول خدا ۖ نے فرمایا:
علی کے شیعوں کو حقارت کی نگاہ سے مت دیکھو اسلیے کہ ان میں سے ہرایک شخص قبیلہ ربیعہ ومضر کے برابر افرادکی شفاعت کر سکتا ہے۔
شیعیان علی کا سبقت لے جانا
٣٥: عن ابن عباس: سَأَلتُ رسولَ اللہِ ۖ عَن قولِ اللہِ: (اَلسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ أُوْلٰئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ[38])(١)
قَالَ: حَدَّثنِی جَبرئِیلُ بِتفسِیرِھَا، قالَ: ذَاکَ عَلِیّ وَشِیْعَتِہِ اِلَی الجَنّةِ[39].
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں میں نے رسول خدا ۖ سے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا تو آپۖ نے فرمایا:
جبرائیل نے مجھے اس کی تفسیر یوں بیان کرتے ہوئے بتایا: وہ علی اور ان کے شیعہ (جنت میں سبقت لینے والے ) ہیں۔
شیعیان علی درخت رسالت کے پتے
٣٦: قالَ رسولُ اللہِۖ :
أَنا الشَّجرةُ، وفَاطمةُ فرعُھَا، وعَلِی لقاحُھَا، وَالحسنُ وَالحسینُ ثَمرُھَا، وشِیعَتُنَا وَرَقُھَا، وأَصْلُ الشَّجرةِ فِیْ جَنّةِ عَدْنٍ، وسَائرُ ذَلِکَ فِی الْجَنّةِ[40].
ترجمہ:
رسول خدا ۖ نے فرمایا:
میں (وہ) شجرہ طیبہ ہوں، فاطمہ اُس کی شاخ ہیں، علی اس کا پیوند ہیں، حسن ، حسین اُس کا پھل ہیں اور ہمارے شیعہ اسکے پتے ہیں، اس درخت کی جڑ جنت میں ہے
شیعیان علی ہی ابرار ہیں
عن الأصبغ بن نباتة قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقولُ: أَخذَ رسولُ اللہِ بِیَدِیْ، ثُمّ قال: یَاأَخی! قول اللہ تعالیٰ: (ثَوَابًا مَنْ عِنْدِ اللّہِ وَاللّہُ عِنْدَہُ حُسْنُ الثَّوَابِ وَمَا عِنْدَاللّہِ خَیْر لِلأَبْرَارِ[41]) أَنتَ الثَّوابُ وَشِیعتُکَ الأَبْرَارُ[42].
ترجمہ:
اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں میں نے علی سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ رسول خدا ۖ نے میرا ہاتھ تھام کر فرمایا:
اے برادرم! خداوند متعال کا یہ فرمان(خدا کے ہاں یہ انکے کیے کا ثواب ہے اور خدا کے یہاں اچھا ہی ثواب ہے) وہ ثواب تم ہو اور ابرار سے مراد آپ کے شیعہ ہیں۔
شیعیان علی نبی ۖ کے جوار میں
٣٨: لَمَّا قَدِمَ عَلِیّ عَلٰی رَسولِ اللہِ لِفَتح خَیْبَرَ قَالَ ۖ:
لَوْلَاأَنْ تَقُولَ فِیکَ طَائفَةً مِن اُمَّتی مَاقَالتِ النَّصاریٰ فِی المسیحِ لَقُلتُ فِیکَ الیومَ مَقَالًا لَاتَمُرُّ بِمَلائٍ اِلَّا أَخذُوا التُّرابَ مِن تَحتَ قَدمیکَ وَمِن فَضلِ طُھُورِکَ یَستَشْفُونَ بہِ، ولکن حسبکَ أن شیعتَک عَلٰی مَنابرَ مَنْ نُورٍ روّائً مَسرورِین، مبیضةً وُجوھُم حَولی أشفعُ لَھم، فَیکونُونَ غدًا فِی الجَنةِ جِیْرَانِیْ[43].
ترجمہ:
جب فتح خیبر کے سلسلہ میں حضرت علی رسول خدا ۖ کی خدمت میں پہنچے تو آنحضرت ۖ نے فرمایا: اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میری امت کا ایک گروہ آپ کے بارے میں وہی بات کرے گا جو عیسی کے بارے میں نصاری نے کہی تو آج میں آپ کے بارے میں ایسی بات بیان کرتا کہ آپ جہاں سے گزرتے لوگ آپ کے پاؤں کی خاک اور آپ کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو شفا کیلئے اکٹھا کرتے۔لیکن آپ (کے مقام ومنزلت) کیلئے یہی کافی ہے کہ آپ کے شیعہ سیراب، خوشحال اور چمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ میرے اطراف میں ہوں گے میں ان کی شفاعت کرونگا اور جنت میں میرے ہمسائے میں ہوں گے۔
شیعیان علی کا مقام
٣٩: قال رسول اللہ ۖ :
لَمَّا اَدْخَلْتُ الْجَنَّةَ رَأَیْتُ فِیھَا شَجرةً وَفِی أَعْلَاھَا الرِّضْوَانُ۔ قُلتُ یاجبرئیلُ لِمَنْ ھَذِہِ الشَّجَرةُ؟
قال: ھذا لِابْنِ عَمّکَ عَلِیَّ بْنَ أبی طَالِبٍ اِذَا أَمَر اللّہُ الخَلیفةَ بِالدُّخُولِ اِلَی الْجَنةِ یُوتیٰ بِشِیْعَةِ عَلِیٍّ یَنْتَھِیْ بِھم اِلیٰ ھَذِہ الشَّجرةُ یَلبِسونَ الْحُلَلَ، وَیرکَبُونَ الخَیلَ البَلَقَ وَیُنادی مُنادٍ: ھَؤُلَائِ شِیعَةُ عَلِیٍّ صَبَرُوا فِی الدُّنیَا عَلَیْ الأَذٰی مَحَبُوا الیَوْمَ[44].
ترجمہ:
رسول خدا ۖ نے فرمایا: جب مجھے (سفرمعراج میں) جنت میں لے جایا گیا تو وہاں پر میں نے ایک درخت دیکھا جس پر رضوان یعنی خدا کی خوشنودی پائی جاتی تھی۔
میں نے پوچھا اے جبرائیل ! یہ درخت کس کیلئے ہے؟
کہا: یہ آپ کے بھائی علی بن ابیطالب کیلئے ہے۔
جب خداوند متعال لوگوں کو جنت میں داخل ہونے کا امر صادر فرمائے گا تو علی اپنے شیعوں کو اس درخت کے پاس لائیں گے ۔ انہوں نے خوبصورت لباس پہنے ہوں گے اور تیزرفتار سواریوں پر سوار ہوں گے۔ منادی ندا دے گا: یہ علی کے شیعہ ہیں جنہیں دنیا میں تکلیفوں پر صبر کرنے کی بناء پر یہ مقام عطا ہوا ہے۔
شیعہ نجات یافتہ فرقہ
٤٠:عن أنس بن مالک قال:
کُنَّا عِند رسولِ اللہۖ، وَتَذَاکَرْنَا رَجُلاً یُصَلِّیْ وَیَصُومُة وَیَتَصَدَّقُ وَیُزَکِّی، فَقالَ یَاأَبَاالحَسنِ لَنَارَسولَ اللّہِ ۖ:
لَاأَعْرُفُہُ... قَال عَلِیّ...فقال: یَاأَباالحَسنِ اِنَّ اُمَّةَ مُوْسیٰ علیہ السلام اِفْتَرَقَتْ عَلٰی اِحْدیٰ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَةً، فِرْقَة نَاجِیَة وَالبَاقُونَ فِیْ النَّارِ۔
وَاِنَّ اُمَّةَ عِیْسیٰ علیہ السلام اِفْتَرَقَتْ عَلٰی اِثْنینَ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَةً، فِرْقَة نَاجِیَة وَالبَاقُونَ فِیْ النَّارِ.
وَستفترقُ اُمَّتیْ عَلٰی ثَلاثٍ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَةً، فِرْقَة نَاجِیَة وَالبَاقُونَ فِیْ النَّارِ.
فقلتُ: یَارسولَ اللہِ ۖ فَمَا النَّاجِیةُ؟ قال: اَلْمُتَمَسِّکُ بِمَا أَنْتَ وَشِیْعَتُکَ وَأَصْحَابُکَ[45]
ترجمہ:
انس بن مالک کہتے ہیں:
میں رسول خدا ۖ کی خدمت میں موجود تھا اور ایک شخص کے بارے میں گفتگو کررہے تھے جو نماز ، روزہ، صدقہ وزکات کا پابند تھا ۔ تو رسول خدا ۖ نے ہم سے فرمایا:میں ایسے شخص کو نہیں جانتا۔ حضرت علی نے سوال کیا تو آنحضرت ۖ نے جواب میں فرمایا:اے ابوالحسن ! بے شک امت موسی اکہتر فرقوں میں بٹ گئی جبکہ ان میں سے صرف ایک فرقہ نجات یافتہ ہے ۔
عیسی کی امت بہتّر فرقوں میں تقسیم ہوگئی جبکہ ان میں سے بھی صرف ایک فرقہ نجات یافتہ ہے۔
اور عنقریب میری امت بھی تہتّر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی جن میں سے صرف ایک فرقہ نجات یافتہ ہوگا اور باقی سب جہنمی ہوں گے۔
میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ۖ کونسا فرقہ نجات پائے گا؟ فرمایا: وہ آپ ، آپ کے شیعہ اور آپ کے اصحاب کی سیرت پر عمل کرنے والے ہوں گے۔
١٧ ربیع الاول ١٤٣٠ ہجری روز ولادت باسعادت پیغمبراکرمۖ کتاب مکمل ہوئی۔
سوربیّنة:٧.[1]
تفسیر در منثور٦:٣٧٩؛ الصواعق المحرقہ:٩٦؛ تفسیر روح المعانی٣٠:٢٠٧؛ تفسیر جامع البیان٣٠:٢٦٥.[2]
٦:٣٧٩؛ تاریخ دمشق٢:٩٥٨٤٤٢.[3]
تفسیر درّمنثور٦:٣٧٩؛ تاریخ دمشق٢:٩٥٨٤٤٢.[4]
تفسیر درّمنثور٦:٣٧٩؛ تفسیر روح المعانی٣٠:٣٠٧؛ کفایة الطالب:٢٤٦.[5]
.[6] حلیة الاولیائ٤:٣٢٩، تالیف ابونعیم اصفہانی؛ تاریخ بغداد١٢:٦٧٣١٢٨٩؛ تاریخ دمشق٢:٨٥٢٣٤٥ اور صفحہ٨٥٩٣٥٠؛ الصواعق المحرقہ:٩٦؛ ینابیع المودّة:٢٥٧؛ منا قب خوارزمی:٦٧ و٢٤٩؛ منتخب کنزالعمال٥:٤٣٩؛ کنزالعمال١٢:٣١٦٣١٣٢٣؛ الاشاعة فی اشتراط الساعة:٤١۔٤٠؛ موضع اوھام الجمع والتفریق١:٥١، تالیف خطیب بغدادی
.[7]فضائل علی بن ابیطالب، حدیث١٩٠، تالیف احمد بن حنبل؛ معجم کبیر طبرانی،ح٩٦؛ تذکرة الخواص جوزی:٣٢٣،باب١٢؛ الصواعق المحرقہ:٩٦؛مقتل خوارزمی١:١٠٩، فصل٦؛الریاض النضرة٢:٢٠٩
.[8] تفسیر التذھیب:٣٥٥، تالیف بیھقی، ذیل آیت (وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلَکُمْ فِیْ شِیَعِ الأَوَّلِیْنَ)؛ مفاتیح النجا:٦١، تألیف علامہ بدخشی.
.[9]مجمع الزوائد٩:١٧٤؛ ینابیع المودّة، باب٥٨،حدیث٢٧٠؛ الصوعق المحرقہ:٩٦؛معجم الکبیر طبرانی،ترجمہ ابی رافع؛ تذکرةالخواص:٣٣٣؛ فرائد السمطین،ح٣٧٥ نقل از ترجمہ الامام علی بن ابی طالب٢:١٣١؛ اسعاف الراغبین فی سیرة المصطفٰی واھل بیتہ الطاھرین:١٣٠، تالیف ابن صبان؛ کفایة الطالب:٣٢٦؛ فضائل علی بن ابی طالب:١٥٢، تالیف عبداللہ بن احمد حنبل.
.[10]کنوز الحقائق فی حدیث خیر الخلائق:٩٨، تالیف علامہ مناوی؛ تذکرہ خواص الامة:٥٤، باب دوم ؛ تاریخ دمشق٢:٤٢٢،حدیث ٩٥٨؛ مناقب علی :٣٧، تالیف علامہ عینی حیدرآبادی.
کنوز الحقائق:٢٠٣، حرف یائ، تألیف علامہ مناوی۔.[11]
مجمع الزوائد ٩:١٣١۔.[12]
ینابیع المودّة:٢٥٦ ؛ مودّة القربی :٨٥ نقل از احقاق الحق١٧:٢٩٨.[13]
مجمع الزوائد ٩:١٣١.[14]
لسان العرب ٢:٥٦٦ مادہ قمح، منتخب کنزالعمال ٥:٥٢؛ نورالأبصار:٧٨، تألیف شبلنجی شافعی.[15]
ینابیع المودّة :٢٥٦.[16]
مجمع الزوائد ٩:١٧٢.[17]
ینابیع المودّة :٢٥٧؛ مودة القربی:٩٠؛ احقاق الحق ١٧:٢٦١.[18]
.[19]ینابیع المودّة :٢٧٠؛ الصواعق المحرقہ:٩٦؛ مناقب خوارزمی:٢٤٣؛ ارحج المطالب:٥٣٠؛ فرائد السمطین١:٢٤٧٣٠٨.
مناقب ابن مغازلی:٢ ١٥.[20]
تاریخ دمشق ٤٢:٨٩٨٧٣٨٤.[21]
سورة حجر:٤٧.[22]
مجمع الزوائد٩:١٧٣.[23]
مناقب ابن مغازلی :٢٩٦.[24]
کفایة الطالب:٢٤٤؛ فرائد السمطین١:١١٨١٥٩، باب٣١.[25]
مناقب خوارزمی:٢٤٥؛ احقاق الحق٧:١٧٥.[26]
ینابیع المودة:١٧٣،باب٥٨؛ غایة المرام:٥٥٣،تالیف موفق.[27]
No comments:
Post a Comment